Death of a politician’s son

جس نه لكها سو فىصد صحيح، عمران كاظمى hundred percent correct whoever wrote this. CrystalHeart, we truly have become a stonehearted nation, whichever way you look at it

قمر زمان کائرہ صاحب کے بیٹے کی ایکسیڈینٹ میں موت کے بعد مسلسل اس خبر کی وجہ سے قوم کے دکھ اور تکلیف میں اضافہ دیکھ رہا ہوں ۔ ۔ ۔ دکھ تو ہونا چاہیئے، کائرہ صاحب کا جواں سال بیٹا جو ابھی کالج میں پڑھتا تھا، تیزرفتاری کے باعث گاڑی الٹ گئی اور اللہ کے پاس پہنچ گیا۔ میری دعا بھی ہے اور مجھے یقین بھی ہے کہ انشا اللہ، اللہ تعالی اس کے درجات بلند کرے گا اور اسے جنت میں جگہ دے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ قمرزمان کائرہ صاحب اور ان کے اہل خانہ کو صبر اور حوصلہ بھی عطا فرمائے گا۔

تاہم میں کائرہ خاندان کے دکھ میں برابر کی شریک اس قوم کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ابھی کل ہی کہ بات ہے جب عدالت نے شاہ رخ جتوئی کی شاہزیب خان کے قتل میں پھانسی کی سزا ختم کردی۔ شاہزیب خان کی عمر بھی اتنی ہی تھی جتنی کائرہ کے بیٹے کی جب اسے 2012 میں سندھ کے تالپور اور جتوئی گھرانوں کے بگڑے ہوئے نوجوانوں نے اس وجہ سے اس کے گھر والوں کے سامنے قتل کرڈالا کہ اس نے انہیں اپنی بہن کو چھیڑنے سے منع کیوں کیا تھا؟ اتفاق کی بات ہے کہ قاتل شاہ رخ جتوئی کی بھی اتنی ہی عمر ہے جتنی کائرہ صاحب کے بیٹے کی۔ کائرہ صاحب اس وقت وزیراطلاعات تھے اور میڈیا کو تلقین کیا کرتے تھے کہ شاہزیب قتل کے واقعے کو سیاسی رنگ مت دے، ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

تھوڑا مزید آگے آئیں، نوازشریف کے دوسرے دور کے وزیرخارجہ صدیق کانجو کے بیٹے نے ن لیگ کے دور میں نشے میں دھت ہو کر راہ چلتے راہگیروں پر فائرنگ شروع کردی جس کے نیتجے میں دسویں جماعت کا طالبعلم جو موٹرسائکل پر سوار تھا، موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ قریب ہی ایک گھر کا دروازہ کھلا جس میں ایک لڑکا شور سن کر باہر نکلا تو وہ بھی گولی لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔ اتفاق کی بات ہے کہ وہ بھی کائرہ صاحب کے بیٹے کا ہم عمر ہی تھا۔ اس وقت کائرہ صاحب کی حلیف جماعت کے وزیراطلاعات نے بھی وہی بیان دیا جو کائرہ صاحب نے دیا تھا، یعنی واقعے کو سیاسی رنگ مت دیا جائے۔

یادداشت کا پہیہ مزید تیز کریں تو ن لیگ دور میں ہی سابق وزیراعظم یوسف گیلانی کے بیٹے عبدالقادر گیلانی نے محض اس وجہ سے ایک نوجوان کو قتل کرڈالا کہ اس نے گیلانی کی گاڑی کو اوورٹیک کیوں کیا؟ اگر میں غلط نہیں تو اس قتل ہونے والے نوجوان کی عمر بھی کائرہ صاحب کے بیٹے کی ہی تھی۔ اس وقت کائرہ صاحب نے پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر کے طور پر پریس کانفرنس میں قوم کی تلقین فرمائی تھی کہ اس واقعے کو سیاسی رنگ مت دے، یہ محض حادثہ ہی ہے۔

ابھی یادداشت کو دوڑاتے جائیں۔ چند سال قبل بلاول کراچی ہسپتال کے انتظامات کا جائزہ لینے پہنچا تو پروٹوکول کی وجہ سے تمام دروازے بند کردیئے گئے، باہر گیٹ پر ایک غریب مزدور اپنی دس سالہ بیٹی کو 104 ڈگری بخار سمیت اپنے بازوؤں میں اٹھائے ایمرجینسی میں جانے کا انتظار کرتا رہا اور دروازے نہ کھلے، یہاں تک کہ اس کی بیٹی اللہ کے پاس پہنچ گئی۔

اس وقت بھی کائرہ صاحب نے پی پی کے دوسرے لیڈرز کے ہمراہ یہی کہا کہ واقعے کو سیاسی رخ مت دیا جائے، ایسے حادثے ہوتے آئے ہیں۔

میری کائرہ صاحب کے ساتھ ہمدردی اتنی ہی ہے جتنی کہ ہماری حرامزادی اشرافیہ کو پاکستانی عوام سے ہے۔

میں بھی کائرہ صاحب کو تسلی دیتے ہوئے یہی کہنا چاہتا ہوں کہ دل چھوٹا مت کریں، ایسے حادثات ہوتے آئے ہیں، نہ تو آپ کا بیٹا وہ پہلا بیٹا ہے جو کسی حادثے میں جاں بحق ہوا، اور نہ ہی آخری۔

تاہم اگر آپ نے اب بھی اپنے سیاسی اعمال کا جائزہ نہ لیا، زرداری کی غلامی ترک نہ کی تو پھر ابھی بہت سے مزید دکھ اور آئیں گے جو کہ آخرت میں ہی ملیں گے۔

باقی رہی بات کائرہ صاحب کے بیٹے کے غم میں مبتلا قوم اور دانشوڑان کی، تو یہ بے غیرت ذہنی غلام ہیں، انہیں ہمیشہ اپنے بچوں سے زیادہ اشرافیہ کے بچے عزیز رہے ۔ ۔ ۔ ایسے بے غیرتوں کا کیا غم اور کیا خوشی!!!

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s